اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اخبار معاریو کے سیاسی تجزیہ کار نے لکھا ہے کہ اگرچہ نیتن یاہو نے لیکود پارٹی کی آئینی کمیٹی کے اجلاس میں داخلی انتخابات کے انعقاد اور انتخابی فہرست کی تنظیم نو کی بات کی ہے، تاہم پارٹی کے بعض سینئر اراکین کا خیال ہے کہ وہ خصوصی نشستوں کے تعین اور اپنے قریبی افراد پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے کر امیدواروں کی فہرست پر زیادہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس صورتحال نے لیکود کے اراکین پارلیمنٹ میں داخلی انتخابات کے وقت اور طریقۂ کار کے حوالے سے تشویش اور غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کر دیا ہے۔
اخبار معاریو نے مزید لکھا ہے کہ خصوصی سکیورٹی حالات پیدا ہونے کی صورت میں انتخابات منسوخ کیے جانے سے متعلق نیتن یاہو کے بیانات نے بھی ان خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اگرچہ صہیونی وزیراعظم کے قریبی حلقوں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی معاملات کو سیاسی امور سے الگ رکھا جاتا ہے، تاہم لیکود کے بعض ارکان اب بھی سمجھتے ہیں کہ نیتن یاہو انتخابی فہرست پر زیادہ اثر و رسوخ قائم کر کے آئندہ انتخابات میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ